دنیا کے جغرافیہ میں تبدیلیوں کا آغاز، مشرق وسطی اور ایشیا بنیادی ہدف

Founder Editor Tazeen Akhtar..
اس وقت دنیا کے جغرافیہ میں تبدیلیوں کا آغاز  ہے،  بالکل اسی طرز پر جیسا کہ آج سے قریباً سو سال پہلے جنگ عظیم اول کے بعد ہؤا.  مشرق وسطی اور ایشیا اس کا بنیادی ہدف ہے.
مشرقی وسطیٰ کے حالات جلد ٹھیک ہونے والے نہیں , کیوں اس میں بیرونی قوتیں اور ان کے مفادات کار فرما ہیں ۔ بیرونی طاقتوں کی کوشش ہو گی که اس مسلے کو مزید الجھایا جائے ۔
جب که ایشیا میں بھی ان کی افغانستان میں موجودگی اور مستقبل کے بارے میں ان کے عزائم کے حوالے سے ہمیں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے ۔ 
 
ٹرمپ انتظامیہ کی حالیہ نئی جنوبی ایشیا پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں امریکہ کے جنوبی ایشیا میں بڑھتے مفادات کا عکس نمایاں ہے وہ اب بھی اس علاقے میں کئی سال تک رہنا چاہتا ہے،
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں طالبان اور دیگر شدت پسندوں کو شکست دینے کے لیے جس نئی پالیسی کا اعلان کیا گیا اس کی اہم تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔
امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کو بہت سخت الفاظ میں دھمکی دی گئی ہے 
 
اپنے بیان میں ٹرمپ نے تنبیہ کی ہے کہ امریکہ ‘اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔ 
جبکہ حسب معمول آنکھوں میں کھٹکنے والے پاکستان کے جوہری پروگرام پر سیکورٹی کے نام پر تحفظات بھی ظاہر کئےگئے ہیں
پاکستان نے ٹرمپ کے بیان اور پالیسی کو یکسر مستر کردیا۔
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کی گئی دھمکی آمیز ’’ جنوبی ایشیا اور افغانستان پالیسی ‘‘ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو اس سطح تک لے جانے کا باعث بن گئی کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنا دورہ امریکہ ملتوی کر دیا ہے۔
 
ناٹو کے طرف سے بھی پاکستان کے خلاف ایسا ہی بیان آیا .
افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان قیادت کوئٹہ اور پشاور میں موجود ہے جس سے باخبر ہیں،دہشت گردوں اور باغیوں کی حمایت کو ر وکنا ہوگا۔چین نے پاکستان کی خدمات کو سراہا ہے، روس نے اعلان کیا ہے کہ ٹرمپ کا عمل خطے کو عدم استحکام کا شکار کردے گا۔پاکستانی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے اندر یا باہر جن عناصر کا خیال ہے کہ چین دہشت گردی کے حوالے سے بہرحال پاکستان کی حکمت عملی اور پالیسیوں کا ساتھ دیتا رہے گا، جنوب مشرقی چین میں ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس کے اعلامیہ سے ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔
 
بیجنگ میں ہونیوالی نویں کانفرنس برکس کےاعلامیے میں
   پاکستان میں پائی جانے والی دہشتگرد تنظیموں کیخلاف اتفاق کرتے ہوئے طالبان لشکر طیبہ، جیش محمد، داعش اور حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے،  
همارے قریبی دوست بھی اس پوزیشن میں نہیں که ؤه سفارتی طور پر ہماری دفاح کر سکے ۔ 
اب اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہو رہا ہے کہ دہشت گرد اور عسکری گروہوں کو پراکسی وار میں استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی ملک دنیا کے امن کے لئے خطرہ کا سبب نہیں بن سکتا ورنہ اسے دوست تلاش کرنے اور عالمی برادری میں وقار حاصل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہو گا۔
 
امریکہ کے بعد اب چین نے بھی پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر بات کردی۔ نوازشریف نے یہی بات کی تھی تو ملکی سلامتی خطرے میں پڑ گئی تھی 
‏کیا پچھلے دو ہفتوں میں ہونے والے واقعات نے خدشات کو درست ثابت کردیا اور اگر وقت سے پہلے ہی ان خدشات کو درست کرلیا جاتا تو آج ہماری اجتماعی بدنامی نا ہوتی۔
اسی طرح امریکی صدر کے  بیان پر غور کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے الگ الگ اجلاس بلا لئے گئے جن سے امریکی صدر کی جانبدارانہ پالیسی کے خلاف متفقہ طور پر قرار دادیں منظور کی گئیں ۔
 
 چیئرمین رضا ربانی کی صدارت میں سینیٹ کے اجلاس میں امریکی صدر کی طرف سے افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کے اعلان پر بحث کرتے ہوئے  کہا کہ امریکہ نے کببھی بھی دوستی پاکستانی عوام کے ساتھ نہیں کی بلکہ ہمشہ اُنھوں نے ملٹری اسٹیلشمنٹ کے ساتھ تعلقات رکھے ہیں۔  ملکی خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہےاور بلخصوص پرویز مشرف کے دور حکومت سے خارجہ پالیسی پر غور کیا جائے۔
 
ملک کے خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہم کو فیصلہ کرنا ہو گا که خارجہ پالیسی کا اختیار کس کے پاس ہے ۔ کون خارجہ پالیسی چلائے گا ۔ اس کے بعد اپنی پچھلی غلطیوں سے سیکھ کر نئے سرے سے خارجہ پالیسی تشکیل دینی ہو گی ۔ جس میں قوم کا مفاد مقدم رکھا جائے۔ 
ہمیں بھی اپنے دور رس مفادات میں فیصلہ کرنا چاہئے
 
ہمیں یہ بات سمجھنا ہو گی که یہ 80 یا 90 کا زمانہ نہیں ہے ۔ اس وقت بڑی طاقتوں کو اسلام کے نام پر جہاد کی ضرورت تھی ۔ اب حالات اور زمینی حقائق مختلف ہے ۔ ریاست کو اپنے اور مذہبی دہشت گرد گروپوں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنی ہو گی۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو دنیا ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہو گی . اس پیچیدہ صورت ِحال کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پاکستان کا رد ِعمل جچا تلا اور ذمہ دارانہ ہو۔ ہم ایک مشکل صورت ِحال کا شکار ہیں۔  جنگی فضا بنانے اور جنگی نعرےکی بجائے امریکہ کے سامنے سفارتکاری کے ذریعے اپنا کیس رکھ دیا جائے ۔ تیاری بڑھکیں مارنے ، اپنی قوم کو اشتعال دلانے اور دفاع پاکستان کونسل والوں کو میدان میں اتارنے کی صورت میں  ہمارا مزید نقصان ہو گا
صدر ٹرمپ کی جانب سے انڈیا کو افغانستان میں مزید کردار ادا کرنے کی دعوت پر پاکستان کو اپنے  تحفظات پر اپنا نقطہ بہتر طور  پر پیش کرنا چاہیے ۔ 
بھارت پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس کی ایجنسیاں افغانستان میں بلوچستان کے قوم پرست عناصر اور دیگر جنگجو گروہوں کی مدد اور تربیت کے ذریعے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے میں سرگرم ہے۔ اس لئے صدر ٹرمپ نے جب افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں میں اضافہ کی بات کی تھی تو اس پر اسلام آباد کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا
افغانستان میں انڈیا اور پاکستان کے مابین پراکسی جنگ جاری ہے اور ایک کی کامیابی دوسرے کے لیے بڑا نقصان تصور کیا جاتا ہے۔ انڈیا کو افغانستان میں اپنا کردار بڑھانے کی دعوت کے باعث پاکستان کو اپنے تحفظات پر بات کرنی چاہیے ۔ اور اپنے موقف کو واضح طور پر پیش کرنا چاہیے ۔ 
 
سفارت کاری سے ہی ہم اپنا موقف دنیا کے سامنے اچھے طریقے سے پیش کر سکتے ہیں.
ہمیں دنیا کو یہ باور کرنا ہو گا که  پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شروع دن سے عالمی اتحاد کا حصہ ہے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’’ہراول‘‘ دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے ۔ 
 70ہزار پاکستانی اس جنگ میں جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ 
سویلین اور ملٹری قیادت اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہو گا۔ ملک کے حالات ٹھیک نہیں سیاسی عدم استحکام بڑھتا جارہا ہے ۔ کیا موجودہ حالات میں ہم سیاسی عدم استحکام کا متحمل ہو سکتے ہیں ؟ 
یہ ؤه سوال ہے جس کا جواب ارباب اقتدار کو تلاش کرنا پڑے گا ۔