خظے کے انتہائی اہم ملک ۔ قازخستان ۔کے ساتھ تعلقات کا فروغ

Founder Editor Tazeen Akhtar..

تزئین ا ختر --------دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ اور خوشحال ملک ہیں انہوں نے یہ ترقی اور خوشحالی اپنے ہمسایوں سے تعلقات بہتر بناکر اور تجارت کو بھی انہی کے ساتھ فروغ دے کر حاصل کی ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ہمسایوں کو تبدیل نہیں کیاجاسکتا۔ اس لئے بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے جائیں ہمارا دین بھی ہمسایوں کا خیال رکھنے کی تاکید کرتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اسی ویژن کے ساتھ خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات اورتعاون کو فروغ دینے میں مصروف ہیں ۔اوراسی سلسلے میں گزشتہ روز ہمارے خطے کے انتہائی اہم ملک،وسطی ایشیاء کے سب سے بڑے ملک قازخستان پہنچے جہاں ان کاگرمجوشی سے استقبال ہوا اور کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پردستخط کئے گئے جن کے تحت دونوں ممالک مختلف شعبوں بشمول سرمایہ کاری،تجارت، توانائی، زراعت، نقل و حمل اور دفاع میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دیں گے۔

اس سلسلے میں دارالحکومت آستانہ میں منگل کے روز ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیراعظم پاکستان نوازشریف اور قازقستان کے وزیراعظم کریم ماسیموو نے بھی شرکت کی۔ سرکاری حکام کے مطابق ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان اور قازقستان کی ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی ایک یادداشت کے تحت دونوں ملکوں نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ فارن سروس اکیڈمی آف پاکستان اور سفارتکاروں کی تربیت کیلئے قازقستان کی اکیڈمی آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پردستخط کئے گئے۔سوویت یونین سے جو ریاستیں آزاد ہوئیں تھی ان میں قازخستان کی بڑی خاص اہمیت ہے۔

 

قازخستان کے ساتھ ہماے قدیم تاریخی ثقافتی، اسلامی رشتے ہیں۔قازخستان کے ساتھ ہمارا کوئی تنازعہ نہیں۔قازخستان نے شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کو مکمل رکنیت دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔اس رکنیت کی بدولت پاکستان کو اقتصادی وسفارتی فوائد حاصل ہوں گے۔اس لحاظ سے وزیراعظم کا دورہ انتہائی اہم قرار دیاجارہا ہے۔ دونوں ملکوں نے دفاع اور اسٹرٹیجک تحقیق میں تعاون کے بارے میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کئے ۔ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اور ان کے ہم منصب کریم ماسیموو نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان اور قازخستان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو انجینئرنگ ، خوراک، زراعت ، ادویات اور شاہرات کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بناناچاہیے۔اس موقع پر وزیراعظم کریم ماسیموو نے قازقستان کی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ راہداری سمندر تک رسائی کا متبادل راستہ فراہم کرے گی۔

وزیراعظم تاجروں صنعتکاروں کا ایک گروپ بھی ساتھ لے کرگئے اورراستے میں ان کے ساتھ صلاح مشورہ بھی کیا۔ قازخستان نہ صرف مذکورہ بالا شعبوں بلکہ توانائی میں بھی پاکستان کے ساتھ گرانقدر تعاون کرسکتاہے۔قازخستان ایک بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان کے پاس بہت سی ایسی آئٹمز ہیں جس کی وہاں زبردست مانگ پیدا کی جاسکتی ہے۔

قارخستان اور پاکستان کے درمیان سرحد نہیں ملتی مگر درمیانی فاصلہ بھی زیادہ نہیں۔ سڑک کے ذریعے چند گھنٹوں میں پہنچا جاسکتا ہے۔ قازخستان اور گوادر کے درمیان فاصلہ صرف36 سو کلو میٹر ہے ۔اس لحاظ سے دیکھاجائے تو وزیراعظم نے قارخستان کے ساتھ تعاون کو فروغ دے کر شاندارپیش رفت کی ہے جس کے پاکستان کی اقتصادی خوشحالی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔قازخستان پر فوکس اور تعاون کے امکانات پر کام کرنے کیلئے دونوں ملکوں کی حکومتیں تحسین کی مستحق ہیں۔ قازخستان لینڈ لاک ملک ہے۔ اس کے پاس سمندر ہے نہ کوئی معروف سمندری راستہ ۔اس کی یہضرورت گوادر پوری کرتا ہے۔ اس لحاظ سے دونوں ملک فطری دوست ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ چین نے پاکستان میں جو اقتصادی راہداری بنانے کا بڑا منصوبہ شروع کیا ہے وہ قازخستان کے کام بھی آسکتا ہے اور چین ہی کی طرح قازخستان کی بھی تجارتی ضروریات پوری کرتا ہے۔

چین اورقازخستان آپس میں بھی دوست ملک ہیں اور ایس سی او میں بھی اکٹھے ہیں۔ قازخستان اس وقت اپنی بیرونی تجارت کیلئے روس پرانحصار کررہا ہے ۔پاکستان کی بندرگاہ اور راہداری استعمال کرنے سے قازخستان کو بڑے فوئد حاصل ہوں گے۔ قارخستان کے وزیر اعظم نے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حکومتی کمیشن کے اجلاس کی تیاریوں پر زوردیا اورکہاکہ ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں تعاون سے دو طرفہ تجارت کو فروغ ملے گا۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف قازخستان کے صدر نور سلطان نذربائیوف کی دعوت پرمنگل کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر آستانہ پہنچ تھے جہاں قازخستان کے وزیر خارجہ یرلان ادریسوف نے ان کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا تھا۔وزیر تجارت خرم دستگیر ، وزیر مملکت برائے پٹرولیم جام کمال ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی ، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ مفتاح اسماعیل اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ قازخستان کے دورے پر گئے ہیں۔اپنے دورے کے دورا ن وزیر اعظم نواز شریف آستانہ میں قازخستان کے صدر نور سلطان نذربائیوف سے بھی ملاقات کریں گے جس میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیاجائے گا۔وزیراعظم نواز شریف کے اس دورے کا مقصد وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو فروغ دینا اور مضبوط بنانا ہے۔جو کہ بلا شبہ وزیراعظم کی دور اندیشی کا ثبوت ہے۔

قازخستان کی ایک اور خاص اہمیت یہ ہے کہ ای سی او میں بھی پاکستان کے ساتھ بطور ممبر موجود ہے۔ یہ تنظیم شروع میں آر سی ڈی(ریجنل کوآپریشن)فارڈویلپمنٹ تھی۔پاکستان ایران اور ترکی اس کے ممبر تھے۔1991ء میں جب وسطی ایشائی ریاستیں آزاد ہوئی تو ان کو بھی اس میں شامل کرلیاگیا اور نام بدل کر ای سی او رکھ دیاگیا۔ افغانستان بھی اس کا رکن بن چکا ہے اس طرح قازخستان سے ترکی تک پاکستان سمیت یہ ایک ایسا بلاک بن جاتا ہے اگر پوری طرح فعال ہوجائے توان ملکوں کو کسی اور ملک کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔مگر بدقسمتی سے افغانستان کے عدم استحکام اور ایران پر عالمی پابندیوں کی وجہ سے یہ بلاک موثر نہیں ہوسکا۔وزیراعظم پاکستان اس بلاک کے تمام ملکوں کے ساتھ رابطے بڑھا کر قائدانہ کردارادا کررہے ہیں۔کئی ممالک کے خود دورے کرچکے ہیں ۔ایران پر پابندیاں ہٹ چکی ہیں افغانستان میں بھی سیاسی استحکام اور امن کی توقع کی جارہی ہے۔وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے پاکستان گیٹ وے ہے۔اب اگر یہ تمام ملک مل کر چلتے ہیں توان کے عوام کی تقدیر بدلنے میں مزید دیر نہیں لگے گی۔