حکومت تمباکو انڈسٹری پر کنٹرول کی پابند ،وزارت خزانہ ایف بی آر بچانے کیلئے سرگرم

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد (تزئین اختر )ماہرین کی تیار کردہ تحقیقی رپورٹ میں وزارت خزانہ کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ عام ہیں اور عوام کی صحت کو اصل خطرہ ان سے ہے ۔تحقیقاتی رپورٹ میں غیر قانونی سگریٹ کی موجودگی 10 فیصد سے بھی کم سامنے آئی ہے جبکہ وزارت خزانہ کا دعویٰ تھا کہ غیر قانونی سگریٹ مارکیٹ میں موجود تمام سگریٹ کا 40 فیصد ہے ۔اس طرح یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ وزارت خزانہ اپنا ریونیو کمانے کیلئے سگریٹ کی خریداری مشکل بنانے کیخلاف ہے اور صرف ریونیو کمانے کیلئے عوام کی صحت اور زندگیوں کو داؤ پر لگاچکی ہے ۔

یہ تفصیلات گزشتہ دنوں پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن(پناہ) اور ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے رپورٹ لانچ کی تقریب میں سامنے آئیں جس میں یہ رپورٹ جاری کی گئی اور وزارت خزانہ پر زور دیا گیا کہ وہ سگریٹ اور اس کی تمام اقسام کو تھرڈ ٹیئر ٹیکس کی سطح سے نکال کر اس پر ٹیکس میں اضافہ کرے تاکہ سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہواور ان کی خریداری میں کمی آئے ۔رپورٹ لانچ کے موقع پر ہارٹ لائف کی بانی عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر مہمان خصوصی تھیں جبکہ (پناہ)کے صدر میجر جنرل مسعود الرحمان کیانی نے صدارت کی ۔اس موقع پر ان دونوں کے علاوہ ایچ ڈی ایف کے چیف ایگزیکٹو کرنل اظہر سلیم نے خطبہ استقبالیہ دیا ۔

کرنل جنید سلیم نے تمباکو نوشی کی تاریخ پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہاکہ صرف کینسر ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سی بیماریاں تمباکو نوشی سے ہوتی ہیں ۔سب سے زیادہ اموات سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے تمباکو اور معیشت کے درمیان تعلق واضح کیا ۔جس سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ وزارت خزانہ اور ایف بی آر اپنے ریونیو کے چکر میں عوام کو سگریٹ کمپینیوں کے سپرد کرچکے ہیں۔ڈاکٹر واجد علی نے تمباکو کے ٹیکس اور عالمی کنونشن سے آگاہ کیا ۔ورسو کنسلٹنگ کے جمال جنجوعہ نے غیر قانونی سگریٹ کی مارکیٹ میں موجودگی اور اس کی کم شرح کے متعلق تیار کی گئی رپورٹ کے متعلق بتایا کہ یہ نتیجہ کس طرح اخذ کیا گیا۔

ڈاکٹر واجد علی نے کہا کہ پاکستان ایف سی ٹی سی پر دستخط کرچکا ہے لہٰذا تمباکو پر کنٹرول حکومت کی ذمہ داری ہے ۔2017ء میں ایف بی آر نے تمباکو نوشی میں کمی پر جو سروے کروایا وہ خود تمباکو انڈسٹری کے ذریعے ہی کروایا اور اسی کو درست مان لیا جس میں بتایا گیا کہ تمباکو نوشی میں 45 فیصد کمی آئی ہے جو کہ غلط تھا ۔وزارت خزانہ نے جھوٹ بولا کے ٹیکس بڑھا دیئے ہیں۔اب 27 اپریل کو فنانس بل آرہا ہے ۔(پناہ) اس طرف توجہ دلاچکی ہے ۔وزیر صحت نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس پر آواز اٹھائیں گے ۔وزارت خزانہ کو بھی اس پر غور کرنا چاہئے۔

ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ وزارت خزانہ کے مطابق اسے تمباکو انڈسٹری سے سالانہ 160 ارب روپے ٹیکس حاصل ہوتا ہے جبکہ محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ1 لاکھ 60 ہزارافراد سگریٹ نوشی کی وجہ سے مر جاتے ہیں ۔کے پی کے ضلع مردان ٗ چارسدہ اور صوابی کے 45 ہزار ایکڑ پر تمباکو کاشت ہوتا ہے ۔کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے ۔وفاقی وزارت خزانہ اسے سیاسی مسئلہ قرار دیتی ہے ۔پھر اس کا کہنا ہے کہ 12 لاکھ لوگ تمباکو انڈسٹری سے وابستہ ہیں ۔ٹوٹل ملکی کارپوریٹ ٹیکس کا 32 فیصد تمباکو انڈسٹری سے آتا ہے ۔اس لئے وزارت خزانہ پابندیوں کیخلاف ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمباکو کی پیداوار کم کرنی ہوگی جس کیلئے متبادل روزگار بھی دینا ہوگا۔علاوہ ازیں تمباکو کو بھی منشیات میں شامل کیا جائے۔جس کو اینٹی نارکوٹکس فورس ڈیل کرے تو نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اس رپورٹ کے مندرجات فنانس بل میں شامل کئے جانے چاہئیں ۔ہماری ریاستی مشینری میں مفادات کا ٹکراؤ آخری چیز ہے جس پر غور کرنے کی زحمت کی جاتی ہے ۔وزارت خزانہ اور تمباکو انڈسٹری کے درمیان بھی یہی مسئلہ ہے ۔پاکستان کو اچھی حکمرانی کے فقدان کا سامنا ہے ۔آئندہ نسلوں کی بہتری کیلئے اس رپورٹ پر عملدرآمد انتہائی ضروری ہے ۔

(پناہ ) کے صدر میجر جنرل مسعود الرحمان کیانی نے کہا کہ ایف سی ٹی سی پر جلدی اور تیز عمل درآمد ہونا چاہئے ۔سگریٹ انڈسٹری پر 70 فیصد ٹیکس لگنا چاہئے ۔سگریٹ کے پیکٹ پر اس کے سائز کے 80 فیصد کے برابر وارننگ شائع کروانے کے وعدے پر حکومت عمل نہیں کروا سکی ۔مخالف لابی زوروں پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سگریٹ انڈسٹری کنٹرول کرنے پر توجہ نہیں دے رہی مگر اس کی وجہ سے صحت کے مسائل پر زیادہ خرچ کردیتی ہے جبکہ ٹیکس کی مد میں اس کی آمدنی صحت پر خرچے کی نسبت کم ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں وزیر صحت کے ہاتھ مضبوط کرنے ہیں جو سگریٹ کنٹرول کیلئے ہمارے ساتھ ہیں اور وزارت خزانہ و ایف بی آر پر دباؤ بڑھانا ہے جو سگریٹ انڈسٹری کے حامی ہیں۔