حتمی ووٹر لسٹوں میں 43 لاکھ خواتین ووٹرز کا اضافہ

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد : 24 مئی 2018 : الیکشن کمیشن آف پاکستان کی  جانب  سے بدھ  کو جاری اعدادوشمار کے مطابق خواتین کی بطور ووٹر رجسٹریشن کی خصوصی مہم کے دوران عام انتخابات 2018  کی حتمی ووٹر لسٹ میں الیکشن کمیشن  کی بےمثل کوششوں اور نادرا   و سول سوسائٹی کی پرجوش حمائت کے نتیجے میں صرف سات ماہ کے دوران 43 لاکھ 7 ہزار 553  خواتین ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے ۔ 

واضح  رہے کہ ٹرسٹ برائے ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلیٹی ( ٹی ڈی ای اے)  کی جانب سےالیکشن کمیشن آف پاکستان کی ملک کے 103 اضلاع میں چلائی جانیوالی خصوصی مہم کی حمائت  کی گئی ۔ اس  مہم کے پہلے مرحلے کے  دوران  18 لاکھ غیر رجسٹرڈ اہل ووٹر خواتین تک رسائی حاصل  کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا ۔ یو ایس ایڈ کی معاونت کیساتھ اس مہم کے پہلے مرحلے پر عمل در آمد ملک بھر میں موجود فافن کی منتخب شریک کار تنظیموں کے ذریعے کیا گیا ۔ 30 اپریل 2018 کو مکمل ہونیوالے اس مرحلے کے دوران ملک کے 24 منتخب ضلعوں میں فافن کی شریک کار تنتظیموں نے شناختی کارڈ سے محروم دس لاکھ  خواتین کی نشاندہی اور فہرست سازی کی۔  .

مہم کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کیلئے رضاکار شہریوں کی  بے مثل خدمات کو سراہنے اور الیکشن کمیشن ، نادرا ، یو ایس ایڈ ،  یو این ڈی پی ،سیاسی جماعتوں ، عام شہریوں و سول سوسائٹی  و ذرائع ابلاغ  کی کوششوں کو  سراہنے  کیلئے جمعرات کوفافن نے ایک تقریب منعقد کی جس  سے خطاب کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل برائے صنفی امور نگہت صدیق نے   مہم کے دوران نادرا اور سول سوسائٹی کے کردار کو  منفرد  ایک  بڑی کامیابی کا سبب  قرار دیا ۔مس نگہت نے توقع ظاہر کی کہ اس  سرگرمی کے نتیجے  میں آئندہ عام انتخابات میں خواتین  کی ووٹنگ کی شرح بڑھے گی ۔

قبل ازیں فافن کی نمائندہ مس مسرت قدیم نے اپنے استقبالیہ خطاب میں ان کوششوں کو اجاگر کیا جو فافن اور شریک کار تنظیموں نے انتخابی فہرستوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے الیکشن کمیشن اور نادرا کی مہم کی حمائت میں کیں ۔ انہوں نے خواتین کی بطور ووٹر رجسٹریشن کی اہمیت  بیان  کرتے  ہوئے  کہا کہ ٖ فافن انتخابی فہرستوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں بڑھتے ہوئے فرق کے مسلے کو اٹھانے میں پیش پیش تھی اور 2015 میں فافن ہی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی توجہ اس طرف مبذول کراتے ہوئے اہل خواتین ووٹرز کے اندراج کیلئے کوششیں تیز کرنے کی درخواست کی تاکہ عام انتخابات 2018 میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی ہو ۔ فافن نے الیکشن کمیشن سے یہ درخواست بھی کی کہ کمیشن نادرا کے اشتراک سے ویمن ووٹر رجسٹریشن ایمرجنسی ڈیکلئر کرے ۔مس مسرت قدیم نے اس حوالے سے  الیکشن کمیشن آف پاکستان ، نادرا اور سول سوسائٹی کی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس مہم کے دوران تعاون اور اشتراک کا جو طریقہ کار اورجذبہ سامنے آیا ہے یہ مستقبل میں بھی قائم رہیگا ۔ 

اس موقع پر ٹی ڈی ای اے (فافن ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد فیاض نے تقریب کے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مہم کے دوران الیکشن کمیشن کے قائدانہ کردار اور تمام متعلقین کو اعتماد میں لیکر آگے بڑھنے کو سراہا اور کہا کہ  کمیشن کے اس جذبے نے مہم کے اہداف حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا  ۔ انہوں نے ملک بھر کے 103 ضلعوں میں  مہم کے دوران نادرا کی طرف سے الیکشن کمیشن اور سول سوسا ئٹی کیساتھ مکمل تعاون کی بھی تعریف کی اور کہا کہ نادرا کی طرف سے مہم کے دوران اوقات کار میں اضافہ اور موبائل سروسز ک بڑھائے جانے  کے عمل نے  نہائت اہم کردار ادا کیا۔

فافن کے سی ای او نے ملک کے 24 ضلعوں میں شنا ختی کارڈز سے محروم  ایک ملین خواتین کی نشاندہی اور انکی فہرست سازی کے حوالے سے فافن کے شہری رضاکاروں  کی  خدمات کو   بے مثل   قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی فہرستوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد کے فرق کو کم کرنیکا کام کئی ایک مسائل کے سبب طویل مدتی ہے تاہم یہ امر  خوش آئند ہے کہ اب ہم اس حوالے سے یکسو متحد اور درست سمت میں ہیں ۔ فافن کے چیف ایگزیکٹو نے بین الاقوامی امدادی اداروں، سیاسی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ کی طرف سے اس مہم کے دوران کئے جانیوالے تعاون کو بھی ناقابل فراموش قرار دیا ۔تقریب  میں شریک  ملک کے 24 ضلعوں میں اس مہم کے دوران رضاکارانہ خدمات انجام دینے والوں نے خواتین کے شناختی کارڈ بنوانےاور انکی بطور ووٹر رجسٹریشن کے حوالے سے اپنے تجربات بھی بیان کئے جبکہ ٹی ڈی ای اے ( فافن ) کی طرف سے  اس موقع پر انکی خدمات کے اعتراف میں  انہیں   تعریفی اسناد  سے بھی نوازا گیا  ۔