جاپان کا قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے گاڑیوں کا تحفہ ،جتنا بڑا آدمی ہو اس کا چالان کیا جائے نثار علی خان

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد۔6نومبر (اردو سروس )وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور جاپان کا لازوال دوستی کا رشتہ ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا ، جاپان حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کیلئے گاڑیوں کا تحفہ دیا ہے جو پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر محکموں کو بھی دیئے جائیں گی ،اسلام آباد ٹریفک پولیس کو چالان میں 35 فیصد ادا کئے جائیں گے ،پولیس کو سیاسی اثر رسوخ سے آزاد کر دیا ہے اب پولیس بھی اپنا میعار بہتر بنائے ،معمولی غلطی کرنے والوں کی اصلاح کی جائے اور جتنا بڑا آدمی ہو اس کا چالان کیا جائے ،ٹریفک پولیس اور دیگر پولیس کے ایک ،ایک آفیسر اور جوان کو ہر چھ ماہ کے بعد سال کا بہترین پولیس آفیسر مقرر کیا جائے گا اور اسے اسناد کے ساتھ ساتھ دو لاکھ روپے انعام بھی دیا جائے گا ۔



ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اسلام آباد ٹریفک پولیس کے ونڈو لائسنس ھال کا افتتاح کے حوالے سے مفعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب میں جاپان کے سفیر ہیرو شی ،چیف کمشنر اسلام آباد ذوالفقار حیدر ،آئی جی اسلام آباد پولیس طاہر عالم خان اور ایس ایس پی ٹریفک ملک مطلوب سمیت پولیس آفسران اور جوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔



چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ گاڑیاں فراہم کرنے پر چاپانی سفیر اور اس کی حکومت کے شکر گزار ہیں چاپان سے 70سالہ پرانی دوستی ہے چاپان کی حکومت اور عوام نے پاکستان کی ہمیشہ مدد کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بغیر کسی شرط کے جاپان ہمارے ساتھ منسلک ہے ۔انہوں نے کہا کہ چاپان نے سیکورٹی ایجنسی اور لاء انفورسمینٹ ایجنسیوں کے لئے پاکستان کو گاڑیا ں دی ہے ایک گاڑی کی مالیت 45لاکھ روپے ہے ۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب میں پولیس کی گاڑیاں روڑ پر دیکھتا ہوں تو مجھے ترس آتا ہے پاکستان میں سرکاری مال کو لوٹ کا مال سمجھا جاتا ہے یہ قوم کا مال ہے اس کی اسی طرح حفاظت کرنی چاہئے جس طرح اپنے مال کی جاتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم قوم اور خدا کے سامنے جواب دہ ہیں ۔

جاپان سے ملنے والی گاڑیاں ایف آئی اے ،ایف سی اور ہماری اپوزیشن کرنے والوں کے صوبے کو بھی فراہم کی جائیں گی لیکن زیادہ گاڑیاں اسلام آباد میں رکھی جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ویڈیو سرولینس کا اہتما م کیا گیا ہے جس کا میں آئندہ ماہ افتتاح کروں گا ۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اڑھائی سال کے عرصے کے دوران میں نے اپنا کوئی بھی جاننے والا پولیس میں نہیں لگایا لیکین اس کے باوجود میں پولیس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں جس جگہ پر چوری ہو پولیس اگلے 24گھنٹوں میں اس کا مداوا کرے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کرائم کنٹرول میں بہتری آئی ہے مجھے یہ نہ بتائیں کہ گزشتہ سال چھ سو گاڑیاں چوری ہوئی اور اس سال دو سو چوری ہوئی ہے میں پولیس سے صرف اور صرف بہتر کام کی ڈیمانڈ کرتا ہوں ۔



وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹریفک چالان میں پہلے 25 ٖفیصد کٹ لگایا جاتا تھا میں نے 35 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے جو پولیس والا کام کرے گا اس کے لئے تمام دروازے کھول دوں گا تاہم کالی بھٹریں کا محاسبہ کیا جانا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں ہر بندہ برا نہیں ہے جو گندے انڈے ہیں وہ سب کو خراب کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حرام پائیدار نہیں ہے اسلام آباد پولیس میں اچھے آفیسر اور جوان ہیں اس کا معیار بہتر اور ماڈل پولیس ہونا چاہیے۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ گزشتہ سال بھی بجٹ میں پیسہ رکھا تھا اور انعامات دیئے گئے تھے اس سال بھی رکھا ہے اور ٹریفک پولیس سمیت آپریشنل پولیس کے ایک ،ایک آفیسرز اور ایک ،ایک جوان کو ہر چھ ماہ بعد تعریفی اسناد اور دو،دو لاکھ روپے انعام دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے ۔



چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ٹاوٹ مافیا کو ختم کرنے کے لئے میں نے پاسپورٹ ،شناختی کارڑ اور ویزہ کمپوٹررائزکر دیا ہے ۔تمام تھانے بھی کمپوٹررائز کر دیئے ہیں لیکن کوئی بہتری نہیں آئی۔ انسپکٹر جنرل اور ایس ایس پی سمیت تمام افسران میرے کہنے کے باوجود اپنے دفاتر سے نہیں نکلتے ۔انہوں نے کہا کہ میری تجاویز کے بعد اسلام آباد میں کرائم کی شرح کم ہوئی ہے نہ کہ پولیس آفسران کی وجہ سے ۔انہوں نے کہا کہ میں تمام وسائل دے رہا ہوں تو مجھے کام بھی سو فیصد چاہئے آئی جی سے لیکر جوان تک سب اس میں اپنا،اپنا حصہ ڈالیں ۔روایتی پولیسنگ سے اب کرائم کنڑول نہیں کیا جا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ ٹریفک والوں کے لئے عام پیغام ہے کہ جو غلطی کرے اسے معاف کر دینا چاہئے عہدے کے لحاظ سے جو جتنا بڑا ہو گا اس کا چالان نہیں چھوڑنا ۔

انہوں نے کہا کہ میری گاڑی کا بھی دو مرتبہ چالان ہو چکا ہے تاہم میں اس میں موجود نہیں تھا اگر میں ہوتا تو اپنے ڈرائیورکو اس طرح نہ کرنے دیتا ۔انہوں نے کہا میرے وزارت سنبھالنے کے پہلے سال 14سووی آئی پیز کا چالان کیا گیا جن میں موجودہ وزیر اعلٰی ،ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ،حاضر سروس جنرل ،سنیئر ججز اور میڈیا کے نمائندے بھی شامل تھے ۔انہوں نے کہا کہ صحافی برادری کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں کیونکہ بعض اوقات انہیں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لئے جلدی ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہئے جب اوپر سے قانون پر عمل ہو گا تو سب عمل کریں گے ۔