تنخواہیں کہیں سے ،ڈیوٹیاں کہیں اور۔ پی ٹی وی یونین ہائیکورٹ جا پہنچی۔ڈائریکٹر فنانس کی تقرری چیلنج

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)پاکستان ٹیلی وژن میں ڈیپوٹیشن پر دیگر محکموں سے ہونے والی تقرریوں کو سی بی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ڈائریکٹر فنانس کی سیٹ پر تقرری روکنے اور پہلے سے موجود 10افسروں کو متعلقہ محکموں میں واپس بھجوانے کے لئے پی ٹی وی سنٹرل ایمپلائز یونین کے جنرل سیکرٹری لیاقت علی تارڑ نے پیٹیشن دائر کردی جس میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ،سیکرٹری انفارمیشن اور منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی سمیت ڈیپوٹیشن پر تعینات تمام افسروں کو فریق بنایا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فریقین کو 3اپریل 2017ء کیلئے نوٹس جاری کردیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی وی ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسروں کی آماجگاہ بن چکا ہے جس میں تازہ ترین تقرری ڈائریکٹر فنانس کے عہدے پر اے جی پی کے افسر عمر چیمہ کو 16فروری 2017ء کو دی گئی جن کی گروپ9میں جوائننگ سے پہلے ہی سی بی اے ہائیکورٹ میں چلی گئی ہے۔

یاد رہے کہ پی ٹی وی ملازمین میں طویل عرصے سے احساس محرومی جنم لے چکا ہے کیونکہ اہم عہدوں پر ادارے کے اپنے افسروں کو ترقی دینے کی بجائے دوسرے محکموں سے افسروں کو تعینات کردیا جاتا ہے۔موجود 10افسروں میں زیادہ تر وزارت اطلاعات کے افسر ہیں جن کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ تنخواہ پی ٹی وی سے لیتے ہیں مگر کام وزارت میں کرتے ہیں۔یہ اس مسئلے کا ایک اور منفی پہلو ہے۔تنخواہ کے علاوہ اضافی الاؤنس،مراعات ،گاڑیاں بھی پی ٹی وی سے فراہم ہوتی ہیں۔

گزشتہ عرصے میں ڈیپوٹیشن پر لگائے جانے والے افسروں میں شفقت عباس پرنسپل سٹاف آفیسر گروپ9،جمیل احمد خان پی آر او گروپ9،سید رشید علی ٹی سی جے اے گروپ2،ارشد محمود ملک پروڈیوسر نیوز /رپورٹر گروپ5،منیر حسین پی آر او گروپ5،مس طاہرہ سیدہ کوارڈینیٹر برائے چیئرمین عطاء الحق قاسمی گروپ9،راجہ منصور احمد ڈرائیور گروپ2،نور خان نیازی سٹاف آفیسر گروپ7،غلام مرتضی ڈرائیورگروپ2،کمال خان ڈرائیور گروپ2شامل ہیں ۔

یہ تمام افسر وزارت میں کام کررہے ہیں ۔ڈرائیور بھی پی ٹی وی کی ڈسپوزل پر نہیں ۔خاتون کوارڈینیٹر چیئرمین آفس میں کیا کام کرتی ہیں ؟اس کا بھی کسی کو کوئی پتہ نہیں۔اب مزید تقرری عمر چیمہ کی ڈائریکٹر فنانس کے طور پر کی گئی تو سی بی اے کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور یونین ہائیکورٹ جا پہنچی۔