تربیلاٹنل4کی افتتاحی تقریب یاسیاسی کریڈٹ کیلئے ڈرامہ بازی ۔گزارشات:جاویداقبال

Founder Editor Tazeen Akhtar..

تربیلاٹنل4کی افتتاحی تقریب یاسیاسی کریڈٹ کیلئے ڈرامہ بازی گزارش یہ ہے کہ10مارچ بروزہفتہ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے تربیلاٹنل 4جس کو T4بھی کہاجاتاہے کہ پہلے برقی یونٹ کاافتتاح کیاT4پروجیکٹ تربیلاڈیم کی ٹنل نمبر4پرایک نیاپاورہاؤس تعمیرکرنے کامقصدیہ ہے جس سے تربیلاسے مزیدسستی ترین1410میگاواٹ بجلی پیداہوگی اوراس کیلئے 3برقی یونٹون کی تعمیرکی جارہی ہے ہرایک یونٹ کی پیداواری صلاحیت 470میگاواٹ اس سلسلے کاپہلابرقی یونٹ جوکہ پروگرام کے مطابق جون 2017کوچلناتھاتعمیراتی تاخیرکے باعث 8ماہ بعدیہ موقعہ آیاتوتربیلاڈیم کی جھیل کاپانی ڈیڈلیول پرتھااورچندبرقی یونٹ چل رہے تھے

بہرحال موجودہ حکومت کواس منصوبہ کے کریڈٹ لینے کی جلدی تھی اس لیے اس نوتعمیرشدہ یونٹ کوکچھ دیرکیلئے چلایاگیاتاکہ افتتاحی تقریب مکمل ہوجائے اصل صورتھال یہ ہے کہ منصوبہ30جون2019کواس صورت میں مکمل ہوگاجب پروگرام کے مطابق 3برقی یونٹ اپنی پیداواری صلاحیت پوری کریں گے ٹی4منصوبہ کااصل کریڈٹ واپڈاتربیلاڈیم کے انجینئرزکوجاتاہے جنہوں نے صدرجنرل پرویزمشرف کے دورمیں اس منصوبہ پرابتدائی کام شروع کیااس میں چندنام سابق چیئرمین واپڈاشکیل درانی سابق جنرل منیجرتربیلاڈیم حضرت عمران کے سٹاف آفیسرمنصف شاہ سابق چیف انجینئرزتربیلاپاورسٹیشن خورشیدانور،دل خان ودیگرانجینئرزشامل ہیں منصوبہ پرتعمیراتی کام پیپلزپارٹی کے دور میں انٹرنیشنل ٹینڈرکے ذریعے شروع ہوا فنڈنگ ورلڈبنک اوراس کے زیراثردیگرڈونرزکی ہے منصوبہ کی تکمیل مدت ابتدائی48ماہ تھی



مگرسابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف نے اس کو36ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی اور اس کیلئے چینی تعمیراتی فرم کوبھاری اضافی رقم بھی دی گئی مگرمعاملہ ناکام رہا ۔ٹی 4منصوبہ پرتقریباً 83ارب روپے رقم خرچ کی گئی اور اس منصوبہ کی سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ ایک سال کے دوران فلڈسیزن میں اگرپانی زیادہ دستیاب ہوا تواس صورت میں ٹی4منصوبہ سے صرف72دن بجلی پیداہوگی اور باقی عرصہ یہ منصوبہ سال کے دوران بندرہے گا ۔اس وجہ سے اس منصوبہ پرابتداء میں کافی اعتراضات بھی ہوئے مگراس پرعملی کام شروع کیاگیا

واپڈاکے پاس ا س منصوبہ کے متبادل چارسدہ کے قریب منڈاڈیم کامنصوبہ ہے جس سے 800میگاواٹ پن بجلی کے علاوہ ایک لاکھ ایکڑفیٹ پانی کاذخیرہ بھی حاصل ہوسکتاہے اور اب 2025کے بعد پاکستان میں پانی کی کمی کے شدیدبحران کی پیشنگوئی کی جارہی ہے ٹی 4منصوبہ آبی ذخیرہ بنیں صرف بجلی کی پیداوارکامنصوبہ ہے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی ہوئی4منصوبہ کے افتتاحی تقریب کی تقریرمیں منڈاڈیم اوربھاشاڈیم کی تعمیرکووقت کی اہم ترین ضرورت قراردیاگیاہے اب مستقبل میں ہمیں ڈیمز چاہیے جس سے پانی کے ذخیرہ کوبڑھاکرگولی کی رفتارسے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کیلئے کام کرنے کی سخت ضرورت ہے

آئندہ تربیلاڈیم سے شروع کیاجانے والامنصوبہ جوٹنل نمبر5پرتعمیرہوگااس سے بھی1250میگاواٹ بجلی توحاصل ہوگی مگرایک سال کے دوران صرف55دن وہ بھی فلڈسیزن میں پانی کی دستیابی پرترقی یافتہ ممالک میں پانی کے ذخیرہ کامعیارایک سال میں 120دن تک استعمال کیلئے پانی دستیاب ہوتاہے مگرہمارے پاس فیلڈمارشل ایوب خان کے تعمیرشدہ منگلاڈیم اورتربیلاڈیم بمشکل ایک ماہ پانی کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں ایوب خان دور کے بعدآج تک ہم آبی ذخیرہ نہیں بناسکے۔

ٹی4منصوبہ میں موجودچیئرمین لیفٹیننٹ جنرل(ر)مزمل حسین واپڈاکے چیف ایڈوائزرناصرحنیف کی دلچسپی کاذکرنہ کرناناانصافی ہوگی۔۷وقت آگیاہے کہ سیاسی ڈرامہ بازیوں اورکریڈٹ کی دوڑکے بجائے واپڈااورانجینئرزکومضبوط کیاجائے اورپانی کے بحران پرقابوپانے کیلئے آبی ذخائرکے منصوبہ جات شروع کرکے اس قوم پررحم کیاجائے۔