او جی ڈی سی ایل ہاؤسنگ سوسائٹی، سینیٹ ، جموں و کشمیر اور سواں گارڈن کا آڈٹ درست نہیں ، تھرڈ پارٹی سے کرایا جائے ۔سینیٹ ذیلی کمیٹی

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آبا د(9 فروری 2018)  سینیٹ ذیلی کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر کلثوم پروین کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس می پی ٹی اے کی گزشتہ چار سالوں کی کارکردگی کے علاوہ سرسید میموریل سوسائٹی ، سواں گارڈن ہاوسنگ سوسائٹی،جموں کشمیر سوسائٹی ، سینیٹ ہاؤسنگ سوسائٹی اور وزارت داخلہ کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالے سے دی گئی سفارشات پر عملدرآمد اور اسلام آباد کی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے سی ڈی اے قوانین ، رولز میں اسلام آباد انتظامیہ کی مشاورت سے کی گئی ترمیم کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا ۔کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ ذیلی کمیٹی نے سینیٹر ہدایت اللہ کی انٹیلی جنس بیوروہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالے سے جو ہدایت دی تھی اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کرایا گیا جس پر اسلام آباد انتظامیہ کے سرکل رجسٹرار نے کمیٹی کو بتایا کہ اگلے ہفتے تک ان کو چیک مل جائیگا۔سرسید میموریل سوسائٹی کے حوالے سے سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ سرسید میموریل ، سرسید احمد خان کی خدمات کو تازہ رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جہاں ان کے کام پر تحقیق کی جاسکے۔ مگر اڑھائی کروڑ کرائے پر عمارت کو دے کر خلاف ورزی کی گئی ہے۔ جس کا تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ جن چار کمپنیوں سے او جی ڈی سی ایل ہاؤسنگ سوسائٹی، سینیٹ ، جموں و کشمیر اور سواں گارڈن کا آڈٹ کرایا ہے وہ درست نہیں ہے ایک دوسرے کی فوٹو چھاپ لگ رہی ہیں ، تھرڈ پارٹی سے ان کا بھی آڈٹ کرایا جائے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سابق ڈائریکٹر کو تنخواہ اگلے ہفتے تک ادا کر دی جائے گی اور عدالت کے فیصلے مطابق جون تک سرسید میموریل کی عمارت خالی کرا لی جائیگی۔انہوں نے انٹیلی جنس بیورو ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق تمام معاملات کی تفصیل بشمول پلاٹوں کی تعداد ، ادائیگیاں وغیرہ کی تفصیلات طلب کر لیں ۔کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ جو ایڈمنسٹریٹر ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں لگائے جاتے ہیں 90 فیصد اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی پر بھی 62/63 کا اطلاق ہونا چاہیے ۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سواں گارڈن سوسائٹی1989میں رجسٹرڈ ہوئی ۔ آخری الیکشن 2015 میں ہوا تھا ، 2005 میں این او سی منظور ہوا جو ابھی سی ڈی اے نے منسوخ کیا ہے ۔ جس پر ممبر پلاننگ سی ڈی اے نے کہا کہ قبرستان کیلئے جگہ نہیں رکھی گئی تھی ۔ سواں گارڈن سوسائٹی کے صدر نے کہا کہ سواں گارڈن کے متعلق آڈٹ رپورٹ زبردستی اسلام آباد انتظامیہ نے حاصل کی ہے ہم سے مشاورت بھی نہیں کی گئی ۔دو من پسند ایڈمنسٹریٹر تعینات کیے گئے جنہوں نے 90 کروڑ کے پلاٹ غیر قانونی طور پر فروخت کیے ہیں ۔ جس پر کمیٹی نے تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرانے کی ہدایت کر دی ۔

ذیلی کمیٹی نے سینیٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کو بھی جلد سے جلد موثر بنانے کی ہدایت کر دی ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پرانی سوسائٹی انتظامیہ کو فارغ کر دیا گیا ہے ۔ نئی کمیٹی کی ابھی نامزدگی نہیں آئی ۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ممبر سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد میں سی ڈی اے کے پاس پانچ سو پارکس ہیں۔جس پر کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ پارکوں کی حالت خراب ہے انسانوں سے زیادہ کوے ہوتے ہیں۔ گندے نالوں کی وجہ سے بہت مسائل ہیں۔پانی کی کمی کا سامنا ماحول آلودہ ہوچکا ہے ۔سپیشل سیکر ٹری کیبنٹ ڈویژن نے کہا کہ گندے پانی کو صاف کرنے کا عمل شروع کیا جائے تو کمی پوری کی جا سکتی ہے۔ شہریوں کو شعور دینے کی ضرورت ہے پرندوں سے ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹرز کو خطرات لاحق ہیں۔سوسا ئٹیوں کو این او سی دینے سے قبل بائیو گارڈن کی شرط ضروری ہونی چاہیے۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی اے کی گزشتہ چارسالہ کارکردگی کا جائزہ تفصیل سے لیا گیا ۔

سینیٹرکلثوم پروین نے کہا کہ ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹہ کو نظر انداز کیا گیا۔ادارے نے ایک اشتہار میں سندھ اور کے پی سے بندہ مانگا اور پنجاب سے بندہ رکھا۔ایک اسامی پر ادارے نے کے پی کے کو نوازاا اور گلگت بلتستان اورسندھ کو نظر انداز کیا ۔بھرتیوں میں کوٹے کو نظر انداز کیا اور من پسند افراد کو نوازا گیا۔کچھ اسامیوں پر وزیراعظم نے نوٹس لیکر معطلی کے احکامات دیئے ہیں ان پر عملدرآمد کیوں نہیں کرایا گیا اور جو رپورٹ فراہم کی گئی ہے اس میں اتنا باریک لکھا گیا ہے کہ کوئی پڑھ نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ پالیسی میٹنگز میں آئی ٹی سمیت دیگر محکموں کے لوگوں کو جو ادائیگی کی گئی وہ لاکھوں میں ہے۔

جس پر ممبر پی ٹی اے نے کہا کہ اس حوالے سے مجھے کوئی علم نہیں تفصیل دی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت تین ممبران میں سے ایک ممبر کو چیئرمین بناتی ہے۔اس وقت صرف ایک ممبر میں ہوں ۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ انتظامی امور تو ایک ممبر دیکھ سکتا ہے تقرریاں کم از کم دو ممبران ہوتو کی جا سکتی ہیں۔ پی ٹی اے ایکٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ قانون سے تجاوز کیا جائے۔سابق چیئرمین کا بھی سکائپ پر انٹرویو کیا اسکی تعیناتی قانون کیخلاف ہے ۔بھرتیوں اور ڈیپوڈیشن کے معاملے میں پی ٹی اے میں قانون کی کھلی خلاف ورزی ہوئی۔ جس پر ممبر پی ٹی اے نے کہا کہ ایکٹ کے مطابق اتھارٹی ملازمت دینے کا حق رکھتی ہے۔سیکشن 3۔10کے مطابق میں اتھارٹی ہوں ۔اگر میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا تو میں کیا کروں۔

جس پر سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ دو ممبران اتھارٹی ہیں ایک ممبر اتھارٹی نہیں۔میں اتھارٹی کو چینلج کر رہی ہوں۔ جو نا مکمل ہے ممبر پی ٹی اے صمد خان نے کہا کہ بھرتیوں کے وقت سارے انٹرویو چیئرمین پی ٹی اے کی موجودگی میں ہوئے۔کنونیئر کمیٹی نے اس حوالے سے آئندہ اجلاس میں اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا ۔ ذیلی کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ہدایت اللہ کے علاوہ سپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن شائستہ سہیل، ایڈیشنل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن الیاس خان، ممبر پلاننگ سی ڈی اے اسد کیانی ، ممبر پی ٹی اے عبدالصمد ، ڈائریکٹر لاء پی ٹی اے محمد خرم صدیق ، صدر سواں گارڈن ہاؤسنگ سوسائٹی ، سرکل رجسٹرارحسینین مظہر و دیگر حکام نے شرکت کی ۔