اورخیال چوہدری کے سارے انڈے ٹوٹ گئے

Founder Editor Tazeen Akhtar..
ایم۔اے۔صبور ملک
بچپن میں سکول کی انگریزی کتاب میں ایک مضمو ن پڑھا تھا ،خیال چوہدری،جس میں خیال چوہدری نام کے ایک معصوم اور بھولے بھالے شخص کے بارے میں بتایا گیا تھا جوکسی گاؤں کا رہنے والا تھا ،جس کی گز ر بسر مرغیوں کے انڈے فروخت کرکے ہوتی تھی،ایک دن خیال چوہدری اپنے سر پر مرغیوں کے انڈوں کی ٹوکری رکھ کر قریبی بازار میں جارہا تھا،کہ اسکے ذہن میں خیال آیا کہ ان انڈوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے مزید مرغیاں خریدوں گا اور پھر وہ انڈے دیں گی ،اور پھر مزید رقم مزید مرغیاں،اور ایک دن میرے پاس مرغیوں کا پورا ایک فارم ہوگا،اور یوں میں ایک امیر آدمی بن جاوں گا،اسی اثناء میں خیال چوہدری کو ٹھوکر لگی اور وہ گر گیا،اور ٹوکری میں موجود سارے انڈے ٹوٹ گئے،خیال چوہدری کا خواب ٹوٹ گیا اور ہوش کی دنُیا میں واپسی پر اسکی ٹوکری کے سارے انڈے ٹوٹ چکے تھے،خیال چوہدری کی خیالی دنیا بکھر گئی اور اسکے امیر ہونے کا خواب ٹوٹ گیا

یہ کہانی وزیر اعظم کی ،جانب سے موجودہ حکومت کے 100دن مکمل ہونے پر کئے گئے خطاب پر یاد آئی،جس میں تبدیلی کے علمبردار مگر عملاًخیال چوہدری کی جانب سے عوام کو مرغیاں پالنے اور انڈے بیچنے کا قمیتی مشورہ دیا گیا،وہ بلند و بانگ دعوے جن کا نعرہ لگا کر موجود ہ حکمرانوں نے عنان حکومت سنبھالی تھی سب ہوا ہو گئے،ملکی نظام کا اہم ترین شعبہ معیشت جو کسی بھی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کی پچھلے 100دنوں کی حالت زار چیخ چیخ کر عمران حکومت کی نااہلی کا اعلان کر رہی ہے،ڈالر کو پر لگے ہوئے ہیں،جس سے درآمدی بل اور اشیائے خورونوش کی قمیتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں،اور وزیر اعظم عوام کو مزید سخت دنوں کی نوید سنا رہے ہیں،رہے موجودہ وفاقی وزیر خزانہ تو انھوں نے جو حال اینگرو کا کیا تھا لگتا ہے اب پاکستانی معیشت کا حشر بھی اینگرو کا سا ہوگا،موصوف کا فرمانا ہے کہ مصنوعی طور پر ڈالر سستا کرنے سے معیشت کو نقصان ہوتا ہے،حضور مصنوعی ہو یا قدرتی ڈالر سستا ہونے سے ہماری معیشت کا بھلا ہو ہوتا ہے،لیکن آپ کی منطق نرالی ہے

ڈالر کی موجودہ اُڑان سے تو یہ لگتا ہے کہ درپردہ آئی ایم ایف کے 150روپے ڈالر کے ایجنڈے کو پروان چڑھایاجارہا ہے،سابقہ دور میں موصوف کی زبان سے ہر وقت اسحاق ڈار اور نواز شریف کے لئے تنقید کے تیروں کی بارش ہوتی تھی کہ پٹرولیم مصنوعات پر فالتو ٹیکس نوازشریف کی جیب میں جارہا ہے ،اب اپنے دور میں اس معاملے پرچپ سادھ لی،اب یہ پیسہ کس کی جیب میں جارہا ہے؟دسمبر کی یکم کو ایک طرف پٹرولیم مصنوعات کی قمیت پرکمی کا لولی پوپ دیا گیا اور ساتھ ہی ڈالر 8سے 11روپے اضافے سے 140کا ہندسہ عبور کر گیا،اور سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار

لیکن خیال چوہدری اور ان کی حواری عوام کو انڈے بیچنے اور مرغی رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں،اور ساتھ طفل تسلی کی حوصلہ رکھو پاکستانیوں ابھی مزید سخت دن آئیں گئے،عمران خان سے بہتری کی اُمید رکھنا عبث ہے کیونکہ جوٹیم عمران خان نے منتخب کی ہے اس میں اگر کوئی صلاحیت ہوتی تو جب یہ لوگ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے ساتھ حکمرانی کے مزے لے رہے تھے تو اُس وقت ملک میں کوئی بہتری آجاتی ،جو کل ناکارہ تھے وہ آج بھی ناکارہ ہی رہیں گئے،اس وقت ہماری معیشت کی جوحالت ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ تبدیلی والوں سے کوئی اچھائی کی اُمید رکھنا کار لاحاصل ہے

پچھلے پانچ سال جس نئے پاکستان کا ڈھنڈورا شدومد سے پیٹا گیا،اسکی شکل مہنگائی کی صورت میں اس وقت قوم کے سامنے ہے،دوسری تجاوزات کے نام پر غریب آدمی کے ٹھیلے گرائے جارہے ہیں،ایک کروڑ نوکریاں کیا دیں گئے آپ ،اُلٹا لوگوں کی روزی روٹی ہی چھین لینا چاہتے ہیں ،مان لیا کہ ناجائز تجاوزات سے مسئلہ ہے لیکن شہریوں کو باعزت روزگار کی فراہمی بھی ریاست کی اہم ذمہ دار ی ہے،اگرکوئی ناجائز تجاوزات کئے ہوئے اپنا ٹھیلہ یا ریڑھی لگائے ہوئے ہے تو اسے متبادل جگہ فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟

یہ تو نہیں کہ کسی کے بچوں سے روٹی کانوالہ تک چھین لیا جائے،اور رہی سہی کسر خیال چوہدری کے بیانات نے پوری کردی ،پچھلے100دنوں کے اقدامات اور اعلانات سے یہ بات بالکل واضح ہو گی ہے اوراس میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے پاس ترقی اور تبدیلی کا کوئی ویژن نہیں،یہ محض لوگوں کو بے وقوف بنا کر اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے،آئے دن وزیر اعظم کی جانب سے پاکستان کے بڑے صوبے پنجاب کے دارلحکومت لاہور جا کر پنجاب میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب سے یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ عثمان بزدار ایک نااہل اور محض کٹھ پتلی ہیں،تخت لاہو ر کی طنابیں کوئی اور ہلا رہا ہے

خیا ل چوہدری کے 100دنوں کا ایک اہم کارنامہ یوٹرن پالیسی ہے یعنی اب یو ٹرن لینا یا دوسرے لفظوں میں بیان بدل دینا یا اپنی کہی ہوئی بات سے سرے سے مکر ہی جانا سرکاری طور پر جائز قرار پایا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ ریاست مدینہ کے دعوے،جناب ریاست مدینہ ایک فلاحی ریاست تھی جس میں کسی یو ٹرن کی کوئی گنجائش نہیں،اور نہ ہی وہ کسی آئی ایم ایف یا امداد کی محتاج تھی۔آپ اپنے ماضی کے دئیے گئیتما م بیانات سے مکر چکے ہیں اب قوم کو مزید تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر بے وقوف بنانے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ اپنی ناکامی کو تسلیم کر کے کوئی ٹھوس اور واضح پالیسی دیں ،ورنہ جو اقدامات پچھلے 100دنوں میں کئے گئے یا جو ارشادات عالیہ حضور نے فرمائے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اگلے پانچ سال بھی کوئی نیا پاکستان نہیں بننے والا،اور نہ ہی عام آدمی کے حالت زار بدلنے والی،خیال چوہدری والے امیر ہونے کے خواب سے باہر نکل آئیں آپ کنٹینر پر نہیں وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہیں