امن کے نام پر بنائے گئے اتحاد کے پیچھے کیا ہے پوری دنیا کو پتا ہے۔ ایرانی سفیر

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی )ایران کے سفیر مہدی ہنردوست نے کہا ہے کہ شام میں حکومت کے خلاف لڑنے کیلئے جو ممالک مسلح گروپوں کو بھیج رہے ہیں وہ یہ بات جان لیں کہ شام کا مسئلہ حل ہونے کے بعد جب یہ گروپ اپنے ملکوں میں واپس جائیں گے تو پھر کیا ہو گا؟



کیونکہ ان گروپوں کے پاس مسلح عسکری کارروائیوں کی تربیت موجود ہے۔ علاوہ ازیں وہ دستی کیمیائی بم بھی بنا سکتے ہیں۔ایسے لوگ جب اپنے ملکوں میں جائیں گے تو وہاں اپنی ان مہارتوں کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے یہ ثابت کر کے دکھا دیا ہے کہ سپر پاور کو نہ کہنا اور اس کے باوجود شان سے زندہ رہنا ممکن ہے۔ گوادر بندر گاہ کے متعلق ہمارے کوئی تحفظات نہیں اور نہ ہی ہم اس کے رقیب ہیں۔ عراق ، شام اور دیگر ملکوں میں بیرونی مداخلت کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک کو جمہوریت اور امن دینے کیلئے وہاں مداخلت نہ کرے۔ کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ہوتا۔ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے جس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ضروری ہے۔ دہشت گردی ختم کرنے کے لئے دہشت گرد گروپوں کی فنانسنگ اور لاجسٹک سپورٹ روکنا ہوگی۔



پاکستان میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے گیس پائپ لائن منصوبہ بہت اہم ہے۔ پاکستان اپنے حصے کا کام مکمل کرے۔ ایران کے سفیر کا کہنا تھا کہ پاک ایران تجارت کا فروغ بہت ضروری ہے، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں اضافے کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے، اس کے لئے موجود مواقعوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے صدر پاکستان کے اہم دورے پر آرہے ہیں، یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ 



یہ باتیں انہوں نے جمعہ کو یہاں نیشنل پریس کلب میں ’’میٹ دی پریس‘‘ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لئے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ بہت اہمیت کا حامل ہے، ایران اپنے علاقے میں گیس پائپ لائن کی مرمت مکمل کرچکا ہے، اب پاکستان کو اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے گیس کے ذخائر بہت زیادہ ہیں۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے یہاں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اس کے علاوہ دہشت گردی پر قابو پانے مین مدد ملے گی۔



داعش کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مہدی ہنردوست کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے دہشت گرد گروپوں کی ’’فنانسنگ‘‘ اور ’’لاجسٹک سپورٹ‘‘ روکنا ضروری ہے، سب جانتے ہیں کہ ان کو کہاں سے یہ مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام اور ایران میں جن دہشت گرد گروپوں کی مدد کی جارہی ہے، تو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جب وہاں سے یہ لوگ واپس لوٹیں گے تو اپنی عسکری تربیت کہاں استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی کا نام نہیں لینا چاہتے لیکن یہ بہت واضح ہے کہ دہشت گردی ایک بین الاقوامی معاملہ ہے جس سے نمٹنے کے لئے سب ممالک کو اکٹھا ہونا ہوگا، انہوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف بنائے جانے والے اتحاد میں مسلم ممالک میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے تین ممالک عراق، شام اور ایران شامل نہیں ہیں۔



انہوں نے کہا کہ امن کے نام پر بنائے گئے اس اتحاد کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما ہے وہ پوری دنیا کو پتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران دونوں ممالک دہشت گردی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے جس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے یمن کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ یمن زمینی فوج نہ بھیجنے کے فیصلے نے عالمی برادری میں پاکستان کے قد کاٹھ میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے بہت سے مفادات اور تشویش مشترک ہیں، دونوں ممالک کے درمیان 980کلومیٹر سرحد ہے۔



ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے کئی شعبوں میں مشترکہ کمیشن اور گروپ ہیں جن کو فعال بناکر تعلقات کو آگے بڑھانا ہوگا۔ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت پر ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کر رہا ہے اور اس مسئلے پر پاکستانی پالیسی بڑی متوازن اور قابل تعریف ہے۔



پاکستان اور ایران کے درمیان نیوکلیئر تعاون کے متعلق سوال پر ایرانی سفیر نے کوئی جواب نہیں دیا اور مسکرا کر بات ٹال دی۔اس سے قبل بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ ایران نے کسی سے بھی نیوکلیئر تعاون حاصل نہیں کیا اور یہ ٹیکنالوجی ہم نے خود حاصل کی۔