اسلحہ اور منشیات کی ترسیل میں ترقی یافتہ ممالک کے بحری جہاز ملوث

Founder Editor Tazeen Akhtar..

  سویڈن پر ایک طویل عرصہ حکمرانی کرنے والی اور موجودہ حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹ نے آخر کار اپنا نیا سربراہ چن لیا ہے اور جماعت کے کارکنان پُر امید ہیں کہ چون سالہ سٹیفن لوفوین جماعت کوبحران سے نکال پائیں گے ۔ گذشتہ انتخابی شکست کے بعد یہ جماعت کے د وسرے سربراہ ہیں۔
 ۔سویڈن نے عندیہ دیا ہے کہ وہ سالِ رواں میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ ۰۰۹۱ مہاجرین کو قبول کرے گا جن میں اکثریت صومالیہ اور اری ٹیریا کے لوگوں کی ہوگی۔
۔سویڈن میں سرطان کی تحقیق کے سلسلہ میں دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں جس کے مطابق کم تعلیم یافتہ، پست معاشی صورتِ حال اور کم سماجی پسِ منظر رکھنے والوں میں سرطان سے شرح اموات چالیس فی صد زیادہ ہے۔
 ۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل ریسرچ انسٹیٹوٹ نے یورپ امریکہ اور عالمی اداروں کی منافقت کا پردہ یوں چاک کیا ہے کہ دنیا بھر میں اسلحہ اور منشیات کی ترسیل اور پھیلاﺅ میں ترقی یافتہ اور امیر ممالک کے بحری جہاز ملوث ہیں۔ جبکہ یہ ممالک اکثر تیسری دنیا اور کچھ اسلامی ممالک کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر اُن پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنے ممالک کے جہازوں سے صرفِ نظر کرتے ہیں۔ جرمنی، یونان، امریکہ، جنوبی کوریا، پانامہ، ایران، ناروے، روس، بیلیز، نیدر لینڈز، ڈنمارک اور جاپان سے تعلق رکھنے والے بحری جہاز اس فہرت میں شامل ہیں۔ دنیا میں ساٹھ فی صد سے زائد ممنوعہ ہتھیاروں، منشیات، حساس فوجی اسلحہ اور آلات جو میزائل، تباہی پھیلانے والے بڑے ہتھیاروںکی ترسیل اور پھیلاﺅ میں انہی ممالک کے جہاز ملوث ہیں۔ یہ ممالک نیٹو، یورپی یونین، اور او ای سی ڈی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِس تحقیقاتی رپورٹ نے اصل صورتِ حال کو منظرِ عام پر پیش کیا ہے مگر عالمی میڈیا اِس بارے میں بھی خاموش ہے کیونکہ وہ بھی تو انہی ممالک سے تعلق رکھتا ہے جو ناجائز اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔