ازبکستان تاجکستان تعلقات کے خطے پر اثرات کے موضوع پر کانفرنس

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سینٹر فار گلوبل اینڈ سٹریٹیجک اسٹیڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام ازبکستان اور تاجکستان سفارتخانوں کے اشتراک سے گزشتہ روز ایک کانفرنس میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی نئی جہتوں اور ان کے خطے پر مثبت اثرات کے موضوع پر ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس کا مقصد دونوں ملکوں میں تعلقات بہتر ہونے کے بعد خطے میں پڑھنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور مقررین نے مختلف حوالوں سے اس پر روشنی ڈالی ۔

کانفرنس میں پالیسی سازی کے لئے سفارشات بھی پیش کی گئیں ۔

اس موقع پر ازبکستان کے سفیر فرقت صدیق نے کہا کہ ہماری تاریخ اور ثقافت مشترکہ ہے ۔ہمار املک تاجکستان کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری کے لئے تیار ہے ۔دو طرفہ تجارت فروغ پذیر ہے ۔اب تک 30کروڑ ڈالر مالیت کی تجارت کے معاہدے ہوچکے ہیں۔انہوں نے اپنے صد ر کی ہمسائیوں سے اچھے تعلقات کی پالیسی پر بھی روشنی ڈالی۔

تاجکستان کے سفیر شیر علی نے کہا کہ 2018ء کی چائنہ کانفرنس کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات میں تاریخی تبدیلی آئی۔وفود کے درمیان تجارت،معیشت ،کلچر،ٹرانسپورٹ،پانی اور سلامتی کے معاملات پر مذاکرات ہوئے۔تاجکستان کی توجہ علاقائی سلامتی خصوصاً افغانستان اور آگے کے علاقے کی صورتحال پر ہے۔ازبکستان کے ساتھ اب تک 27معاہدے ہوچکے ہیں جو ریلوے ،سیاحتی پروازوں ،ٹرانسپورٹ،مواصلات اور توانائی شعبے میں ہیں ۔تجارت50کروڑ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ تاجکستان اور ازبکستان کے انسانی وسائل مستقبل میں پاکستان کے لئے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

کانفرنس میں بریگیڈئیر اختر نواز جنجوعہ،اشفاق احمد گوندل،اعظم سعوداور صدر سینٹر فار گلوبل اینڈ سٹریٹیجک اسٹیڈیز میجرجنرل(ر) عامر جعفری نے بھی خطاب کیا۔

میجرجنرل(ر) عامر جعفری نے دونوں ملکوں میں تعلقات بہتر بنانے اور علاقائی ربط کے لئے سینٹر کے کردار پر روشنی ڈالی ۔