ابتدائی حلقہ بندیاں: صوبائی اسمبلیوں کے 92 حلقوں میں ووٹ کی مساوات کا اصول نظرانداز

Founder Editor Tazeen Akhtar..

اسلام آباد، 10اپریل ، 2018: فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کی جانب سے صوبائی اسمبلیوں کے مجوّزہ حلقوں کے جائزے پر مبنی رپورٹ کے مطابق 92 صوبائی اسمبلی حلقوں کی حد بندیاں کرتے وقت ووٹ کی مساوات کے اصول کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق دو حلقوں کے مابین آبادی کے لحاظ سے دس فیصد سے زیادہ فرق نہیں ہونا اگرچہ قانون میں استثنائی صورتوں میں اس اصول سے انحراف کی اجازت دی گئی ہے اور الیکشن کمیشن کو پابند بنایا گیا ہے کہ انحراف کی صورت میں وجوہات کو تحریری طور پر قلمبند کرے۔ فافن کی رپورٹ میںیہ بات سامنے آئی ہے کہ حلقہ بندی کے عمل سے گزرنے والے چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل 575حلقوں میں سے بلوچستان کے 26، خیبرپختونخوا کے 22، پنجاب کے 21 اور سندھ کے 23 حلقے ایسے ہیں جن کی آبادی کا متعلقہ صوبے کی اوسط آبادی سے فرق دس فیصد سے زیادہ ہے۔

ان بانوے حلقوں میں سے 72 حلقے ایسے ہیں جن کی آبادی متعلقہ صوبے کی فی حلقہ اوسط آبادی سے 11 فیصد سے 20 فیصد تک کم یا زیادہ ہے جبکہ نو حلقوں کی آبادی 21 فیصد سے 30 فیصد تک کم یا زیاد ہے، سات حلقوں کی آبادی 31 فیصد سے 40 فیصد تک کم یا زیادہ ہے اور تین حلقوں میںیہ فرق 41 فیصد سے پچاس فیصد کے درمیان ہے جبکہ بلوچستان کے ایک حلقے میں اوسط سے فرق کییہ شرح پچاس فیصد سے بھی اوپر چلی گئی ہے۔ 

فافن کی جانب سے جاری کی گئی حلقہ بندیوں کی تجاویز کے تفصیلی تکنیکی جائزے پر مبنی رپورٹ جاری گئی جس میں صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے حجم میں آبادی اور رائے دہندگان میں پائے جانے والے فرق کا قومی‘ صوبائی اور ضلعی اوسط کے لحاظ سے تجزیہ کیا گیا ہے۔

مجوّزہ حلقہ بندیوں کے تقابلی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ حلقوں میں آبادی کے اعتبار سے خاصا فرق پایا جاتا ہے۔ یہ فرق چاروں صوبائی اسمبلی کے درمیان بھی نظر آتا ہے اور ہر اسمبلی کے اپنے حلقوں کے درمیان بھی واضح ہے۔ م۔ مثلاً بلوچستان صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی اوسط آبادی 242،054 ہے جبکہ پنجاب میںیہ اوسط 370،307 ہے۔ صوبوں کے اندر مختلف اضلاع میں نشستیں تقسیم کرتے وقت بھی مساوات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ صوصوبوں کی سب سے زیادہ آبادی والی نشستوں اور سب سے کم آبادی والی نشستوں کے درمیان خاصا زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ مثلاً بلوچستان کے حلقہ پی بی 17 جھل مگسی کی کل آبادی 149،225 ہے جبکہ پی بی 24 قلعہ عبداللّٰہ کی آبادی جھل مگسی سے تین گنا زیادہ 407،323 شہریوں پر مشتمل ہے۔اس اعتبار سے پی بی 24 کے شہریوں کے ووٹ کی طاقت پی بی 17 کے شہریوں سے تین گنا کم ہوگی۔

اسی طرح خیبرپختونخوا میں پی کے 35 تورغر کی آبادی 171،395 نفوس پر مشتمل ہے جبکہ سب سے بڑا حلقہ پی کے 1 چترال ہے جہاں 447،362 شہری بستے ہیں۔ پنجاب میں مظفرگڑھ کے 318،574 شہریوں کے لیے پی پی 273 مظفرگڑھ سکس نامی ایک حلقہ بنایا گیا ہے جبکہ گجرات کے 433،794 شہریوں کو بھی پی پی 34 گجرات سیون نامی ایک ہی حلقہ دیا گیا ہے۔ سندھ میں بھییہی صورتحال ہے جہاں پی ایس 77 ٹھٹھہ ون کی آبادی 312،248 نفوس ہے اور پی ایس 35 نوشہروفیروز تھری کی آبادی 429،980 نفوس ہے۔

مزیدبرآں حلقہ بندیوں کے اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں کے لیے استعمال کیے جانے والے آبادی کے اعداد و شمار میں فرق پایا جاتا ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کم از کم چار اضلاع میں قومی اسمبلی کے حلقوں کی کل آبادی ان اضلاع کے صوبائیئی اسمبلی کے حلقوں کی آبادی سے کم یا زیادہ ہے۔ پنجاب میں ڈیرہ غازی خان اور لودھراں کے اضلاع میں اور خیبرپختونخوا میں ایبٹ آباد میں صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی آبادی کو جمع کیا جائے تو وہ قومی اسمبلی کے حلقوں کی کل آبادی سے بڑھ جاتی ہے جبکہ مظفر گڑھ کے صوبائی اسمبلی حلقوں کی آبادی ضلع کے قومی اسمبلی حلقوں کی آبادی سے کم ہے۔ آبادی کی اس فرق کی وجہ سے پنجاب میں 90،550 اور خیبرپختونخوا میں 360 شہریوں کا حقِ نمائندگی متاثر ہوسکتا ہے۔

اسی طرح اگر ووٹروں کے اعدادوشمار کی روشنی میں مجوّزہ حلقہ بندیوں کو دیکھا جائے تو بھی حلقوں کے درمیان عدم مساوات واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے اکتوبر 2017 میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ووٹروں کی تعداد 35،000 سے 229،000 تک ہوسکتی ہے۔ فافن کے تجزیے کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے 22 حلقوں اور خیبرپختونخوا کے ایک حلقے میں ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ سے کم ہوسکتی ہے۔

چاروں صوبوں میں فی حلقہ ووٹروں کی اوسط تعداد میں خاصا فرق پایا جاتا ہے۔ بلوچستان صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں اوسطاً 72،595 ووٹرو ہوسکتے ہیں جبکہ پنجاب میںیہ اوسط اڑھائی گنا بڑھ کر 187،948 ووٹر فی حلقہ ہوسکتی ہے۔ سندھ کے صوبائی اسمبلی حلقوں میں اوسطاً 158،840 ووٹر اور خیبرپختونخوا میں 141،580 ووٹر ہوسکتے ہیں۔ اگر ہر ضلع میں ووٹروں کی تعداد اور صوبائی اسمبلی حلقوں کا موازنہ کیا جائے تو حلقوں کے درمیان تفاوت مزید نمایاں ہوجاتا ہے۔ مثلاً خیبرپپختونخوا میں لوئر دیر ضلع کو صوبائی اسمبلی میں پانچ اور ایبٹ آباد کو چار نشستیں دی گئی ہیں جبکہ دیر میں ووٹروں کی تعداد 622،829 ہے جبکہ ایبٹ آباد میںیہ تعداد 774،134 ہے جو کہ دیر کی نسبت زیادہ ہے۔       

پنجاب میں دس لاکھ سے زائد ووٹروں والے ضلع چکوال کو صوبائی اسمبلی میں چار نشستیں دی گئی ہیں جبکہ اس سے کہیں کم قریباً آٹھ لاکھ آبادی والے راجن پور ضلع کو اسمبلی میں پانچ نشستیں دی گئی ہیں۔ سندھ میں سوا پانچ لاکھ ووٹر آبادی والے ضلع تھرپارکر اور قریباً سوا سات لاکھ ووٹر آبادی والے ضلع  شہید بے نظیر آباد کو صوبائی اسمبلی میں مساوی نمائندگی دیتے ہوئے چار چار نشستیں دی گئی ہیں۔ اسی طرح کراچی غربی ضلع کے سولہ لاکھ ووٹروں کو گیار نشستیں دی گئی ہیں جبکہ اس سے زیادہ سترہ لاکھ ووٹروں والے کراچی وسطی ضلع کے حصّے میں صرف اٹھ نشستیں آئی ہیں۔ یہی صورتحال بلوچستان میں ہے جہاں پشین میں کیچ سے زیادہ ووٹر آباد ہیں لیکن اسے صوبائی اسمبلی میں کیچ کے مقابلے میں ایک نشست کم دی گئی ہے۔

بلوچستان اسمبلی کے نصف سے زائد حلقوں میں ووٹ ڈالنے کے اہل افراد کی تعداد ممکنہ طور پر ایک لاکھ سے کم ہے جبکہ پنجاب اسمبلی کے زیادہ تر حلقوں میں ووٹروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان ہے۔ بلوچستان کے بائیس اضلاع اور خیبرپختونخوا کے ایک ضلع کے صوبائی اسمبلی حلقوں میں ووٹروں کی آبادی ایک لاکھ سے کم ہوگی جبکہ بلوچستان کی چھ، سندھ کے 14 اور خیبرپختونخوا کے 13 اضلاع کے صوبائی اسمبلی حلقوں میں میں ووٹروں کی آبادی ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان ہوگی۔ اسی طرح، پنجاب کے 25، سندھ کے 13 اور خیبرپختونخوا کے نو اضلاع کے صوبائی اسمبلی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان ہوسکتی ہے جبکہ پنجاب کے 11 اور سندھ اور خیبرپختونخوا کے دو دو اضلاع میں ووٹروں کی تعداد دو لاکھ سے متجاوز ہو گی۔